نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ملت تشیع کے خلاف حکومت کے ناروا اقدام پوری قوم کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔آغا علی رضوی

گلگت ( ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل)نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ملت تشیع کے خلاف حکومت کے ناروا اقدام پوری قوم کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں یوم حسین ؑ کے انعقاد پر پابندی صوبائی حکومت کا تعصب پر مبنی اقدام ہے۔اتحادو وحدت کے داعی علماء کرام کی پاکستانی شہریت کی معطلی اور قومی شناختی کارڈ کو بلاک کیا جانا ملک کو انتشار کی طرف لے جانے کی دانستہ سازش ہے۔
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ حکومت دانستہ طور پر ملت تشیع کو بے جا تنگ کررہی ہے ،ملک دشمن قوتوں کے ایماء پر ملت تشیع کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے،گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں سیاسی و سماجی شخصیات اور علماء کرام کو محض شیعہ ہونے کے جرم میں حکومتی اداروں کی طرف سے اٹھایا جاناملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہیں۔ ہماری حب الوطنی اور قانون و آئین کی پاسداری کو کمزوری سمجھنا حکومت کا غیر داشمندانہ اقدام ہے۔اگر حکومت نے شیعہ مخالف روش تبدیل نہ کی تو ہم ملک گیر احتجاج پہ مجبور ہوجائینگے۔ حکمران ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش ترک کرے اور ہمارے خلاف کی جانیوالی ناانصافیوں کا فوری طور پر تدارک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک شیعہ کمیونٹی کی ان گنت قربانیاں ہیں۔28 ہزار مربع میل پر محیط گلگت بلتستان ڈوگرا راج سے آزادکروانا اور اس اہم خطے کو پاکستان کا حصہ بنانے میں ملت تشیع کا مرکزی کردار ہے۔ یہ علاقہ حسین جذبے سے آزاد ہوا ہے اور آج یہاں حسین ؑ کا دن منانے پر پابندی عائد کرنا حکومت کا احمقانہ اقدام ہے۔ اس ملک کیلئے قیام پاکستان سے اب تک بائیس ہزار سے زائد شیعہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا جاچکا ہے۔ہم اس ملک کے ذمہ دار شہری ہیں اور اپنے ساتھ کسی قسم کے امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مطالبہ کیاہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی مقاصد کے حصول کی بجائے دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا جائے۔

About مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.