سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کا محرم الحرام 1438 ھ کی مناسبت سے ملت اسلامیہ کے نا م خصوصی پیغام

باسمہ تعالیٰ
ماہ محرم الحرام 1438 ھ کی مناسبت سے علامہ ناصر جعفری سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا ملت اسلامیہ کے نا م خصوصی پیغام
” قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى”۔
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر یہ کہ امت میری آل ؑ سے محبت کرے ۔ سورہ شوریٰ آیت 23
کل یوم عاشورہ و کل ارض کربلا
عزاداران امام حسین اور تمام پاکستانی بھائیوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!

سر تاج انبیاء ،خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی رسالت کا کوئی اجر اپنی امت سے طلب نہ کیا مگر یہ کہ امت انکی آل پاکؑ سے مودت اور محبت کریں ۔

بلا شبہ نواسہ رسول ﷺ ،سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام ،حضرت رسول پاک ﷺکے قرابت دار بھی ہیں اور آل عباء کے ایک اہم رکن بھی اور آیۃ مباہلہ قلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ۔۔۔۔۔۔کی رو سے فرزند رسول اللہ ﷺ بھی ہیں ۔لہذا ہر کلمہ گو مسلمان پرامام حسین ؑ کی محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت فرض ہے ۔ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑ نے یزید جیسے فاسق و فاجر اور بد عقیدہ انسان کی بیعت سے اس لئے انکار کیا چونکہ وہ جس مسند پر براجمان ہوا تھا ،وہ انبیاء اور انکے معصوم اوصیاءکا منصب تھا ۔امام حسین ؑ جو وارث خاتم الانبیاء ہیں وہ کیسے اتنے بڑے انحراف اور غصب کو برداشت کرتے کہ جسکی بنا پر پورے اسلامی معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو رہی تھیں اور جسکا اثر صرف اس زمانے تک محدود نہ تھا بلکہ تا قیامت بشر ، دین مبین اسلام جیسی ابدی نعمت سے محروم ہو جاتا ۔

اسی لئے امام حسین ؑ نے یزید کی بیعت کو ٹھکرا تے ہوئے فرمایا کہ و علی الاسلام السّلام اذ قد بلیت الامة براع مثل یزید  ۔ کہ اسلام پر فاتحہ پڑھ لینی چاہئے اگر یزید جیسا پلید انسان اس امت کا خلیفہ بن بیٹھے ۔

پس ماہ محرم الحرام ،محمدی اسلام کے خلاف بر سر پیکار قوتوں کی بیعت کے انکار کا نام ہے ۔ہر دور کی یزیدیت کے خلاف حسینیت کے قیام کا مہینہ ہے ۔عزاداری سید الشہداء امام حسین ؑ سے تجدید عہد ،مودت ،محبت اور اظہار وفاداری کا مہینہ ہے ۔

مادر وطن کے تمام مسلم اور غیر مسلم بھی ماہ محرم کا احترام کرتے ہیں ۔یہ مہینہ امن اور آشتی کا مہینہ ہے ۔یہ مہینہ مادر وطن کے تمام بیٹوں کے درمیان ہمآہنگی ،محبت اور بھائی چارے کا مہینہ ہے ۔لہذا امید ہے کہ تمام شیعہ اور سنی بھائی ملکر نواسہ رسول ﷺ کا غم پوری عقیدت و احترام سے منائیں گے ۔

اس سال کا ماہ محرم ان حالات میں آرہا ہے جب ایک جانب ہندوستان کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کےپہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ ہمارے بارڈر پر مسلسل جارحیت اور جنگی جنون کے اظہارکے ساتھ ساتھ گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ دشمن کی طرف سے جاری ہے اور دشمن کی یہ کوشش ہے کہ امام حسین ؑ کی ماننے والی پاکستانی قوم کو اپنی بزدلانہ کاروائیوں سے ڈرادے ،لیکن ہمارا جواب دشمن کو وہی ہے جو امام حسین ؑ کا جواب یزید کو تھا کہ ” ھیھات منا الذلۃ  “ذلت و رسوائی ہم سے دور ہے ،ہم جان تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے ملک کی سالمیت پر کو ئی سمجھوتا نہیں کر سکتے ۔

دوسری جانب ملک دشمن تکفیری دہشت گرد اور کالعدم جماعتیں اس ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی اپنی مذموم کو ششوں میں مصروف ہیں اور یہ منحوس یزیدی قوتیں ملک کی سالمیت سے کھیل رہی ہیں لیکن پاکستان کا ہر محب وطن شہری ان تکفیری دہشت گردوں سے نفرت کرتا رہا ہے ۔اس ملک میں شدت پسندوں اور کالعدم تکفیری جماعتوں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ہم پاک فوج کے ضرب عضب اور نیشنل ایکش پلان کی بھر پور حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ایسی بعض قوتیں جونیشنل ایکشن پلان کو منحرف کرنا چاہتی ہیں اسکی بھی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔

ہم تمام عزاداروں ،ماتمی دستوں ،بانیان مجالس ،ذاکرین عظام اور علماء کرام کے ساتھ ملکر ان شاءاللہ عزاداری سید الشہداء کو پوری قوت اور طاقت کے ساتھ منائیں گے اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پوری طاقت کے ساتھ دور کریں گے  (ان شاءاللہ)میںتمام عزاداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نظم وضبط،وحدت اور سیکیورٹی کے بھر پور انتظامات کے ساتھ عزاداری کو انجام دیں۔

امید ہے حکومت نے جو وعدے اس ماہ محرم کےحوالے سے کیے ہیںجس میںامن و امان کی بحالی، بے جا پابندیوںکےاٹھانے اور ذاکرین اور بانیان مجالس کے ساتھ مکمل تعاون  کی یقین دہانی شامل ہے وہ اس پر عمل کرے گی ۔
کشمیر، فلسطین، یمن ،شام ،لبنان ،عراق ،نائجیریا اور دیگر اسلامی ممالک میں استکباری طاقتوں کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ حسینی جوانوں کی شجاعت اور بہادری کے نتیجے میں دم توڑ چکا ہے اور انکے مذموم مقاصد ناکام ہو چکے ہیں اور جب تک کربلائی جوان اور با بصیرت رہبریت موجود ہے ،استکباری یزیدی طاقتیں اپنے شیطانی مقاصد میں کھبی کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو معرفت کربلا اور پیروی امام حسین ؑ نصیب فرمائے اور آخری حجت کا جلد ظہور فرمائے ۔ تاکہ ظلم کی سیاہ راتیں تمام ہوں اور عدل و معنویت کا سورج طلوع ہو ۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ناصر عباس جعفری
مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان
29ذی الحجۃ  1438 ھ

About مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.