اسرائیل اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ ملکر مشرق وسطیٰ میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کے درپے ہے۔سید حسن نصراللہ

گلگت ( ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل) ۔16 فروری 2016 کو شہدائے مزاحمت شہید قائد سید عبا س موسوی،شیخ شہید راغب حرب اور عظیم مجاہد شہید عماد مغنیہ کے ا یام شہادت کے مناسبت سے منعقدہ یوم شہداء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک اسرائیل کے دھوکے میں آکر شام میں مداخلت سے باز رہیں۔اسرائیلی سازشوں کے نتائج کے دو واضح امکانات ہیں۔ایک یہ کہ اسرائیل عرب اتھادیوں کے ساتھ ملک کر ایک سنی اتحاد تشکیل دے خطے میں فرقہ واریت کو فروغ دیکر اپنے مقاصد کی تکمیل کرے۔دوسرا امکان یہ نظر آرہا ہے کہ اسرائیل شامی افواج کو کمزور کرکے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دے۔اسرائیل فلسطین کی تحریک مز احمت اور لبنان میں مزاحمتی تحریک حزب اللہ سے خوفزدہ ہے اور اپنے اس خوف و وہشت کو مٹانے کی خاطر انہوں نے عرب ممالک سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے اور یمن ،شام، عراق،لبنان اور بحرین میں اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش میں غرق ہے اور اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو حالت جنگ کی کیفیت ہے اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔اسرائیل اس وقت خود کو سنی مسلمانوں کا ہمدرد وہ ہمنوا ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے خاص کر عرب ممالک میں اسرائیل کی اس ہمدردی کا احترام کیا جارہا ہے اور عرب حکومتیں خود اپنے ہی عوام کا استحصال کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ عرب حکومتیں اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ ارض فلسطین میں اسرائیل نے لاکھوں سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور برسوں سے ارض فلسطین پر غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے جہاں روزانہ بچے بوڑھے مرد خواتین صیہونی فوجیوں کی گولیاں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔کس طرح کوئی سمجھدار شخص ان سنی عرب ریاستوں میں اسرائیل جیسے خون خوار اور خطرناک دشمن کو اپنا دوست اور خیر خواہ تصور کرسکتا ہے؟صیہونی مسلمانوں کا دوست کبھی نہیں ہوسکتاخواہ کوئی کتنا ہی اسے اپنا اتحادی تصور کرے،اس صیہونی غاصب ریاست نے مسجد اقصیٰ جو تمام مسلمانوں کی عبادت گاہ اور قبلہ اول ہے پر غاصبانہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔سید حسن نصراللہ نے خبر دار کیا کہ اگر عرب اس اسرائیل کو سنی مسلمانوں کا دوست اور عرب اتحادی تسلیم کرتے ہیں تو یہ یاد رکھا جائے کہ پھر سنی ریاست فلسطین بھی اسرائیل کی سنی دوستی میں شامل ہوگی اور فلسطین مظلوم ملت کی جدوجہد بھی نقصان اٹھائے گی۔انہوں نے مسلم امہ کے علماء اور اکابرین سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کے اس منفی ہتھکنڈے کے خلاف متحد ہوکر وضاحت کریں اور اسرائیل کی جانب سے سنی مسلمانوں کی دوستی کے اس جھوٹے اور مکارانہ فعل کو مسترد کریں ورنہ فلسطین میں تحریک مزاحمت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیگی۔

About مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے

One comment

  1. Propecia Low Price 1 Mg Compra Levitra 10 Mg Bentyl Website Saturday Delivery viagra Vasotec Cheap Viagra Without A Prescription

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.