کیا ہم ایک بڑی جنگ کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ع صلاح

گلگت ( ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل) ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال میں بظاہر کوئی چیز یقینی کیفیت میں نظر نہیں آرہی ہے،حالات دنوں کی بجائے لمحوں میں بدلنے لگے ہیں۔ صاحبان نظر اور عالمان زمان کے سامنے گرچہ کسی قسم کا کنفیوژن نہیں لیکن فیصلہ کن رائے کا اختیار اب تک ان کے پاس بھی نہیں۔ ایک بات طے ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے سامنے دو ہی آپشنز بچے ہیں ۔پہلا یہ کہ وہ چپ چاپ خاموشی سے اپنی شکست تسلیم کریں اور واپس شاہ عبد اللہ کے زمانے کی پالیسی کو اپناکر “خاموشی فضیلت ہے اور اسی میں کامیابی و عافیت ہے” کے فارمولے پر عمل پیرا ہوجائیں اور اپنی تمام تر سرگرمیوں کو پردوں کے پیچھے دھکیل دیں۔دوسرا آپشن یہ ہے کہ ایک بڑے معرکے میں کود جائیں جو تجزیہ کاروں کے مطابق نہ صرف خودکشی ہوگی بلکہ ” اقتربت الساعۃ” کا مرحلہ ہوگا یعنی وہ وقت قریب آہی جائے گا جس کے بارے میں دینی متون نے مسلسل توجہ دلائی ہے اور جس کیلئے نہ صرف مسلمان بلکہ انسان طول تاریخ میں دن گنتا رہا ہے۔
افریقی عرب ممالک جیسے الجزائر سے لیکر مشرق وسطیٰ اور پھر برصغیر میں پاکستان تک ایک بڑ ے اتحاد کی کوشش کی خاطر سعودی عرب دوسروں سے اپنے تمام تر اختلافات کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگا ہے۔کہیں بلین ڈالرز کی رشوت تو کہیں عرب قومیت یا مسلکی کارڈ تو کہیں میگا پروجیکٹس یا سرمایہ کاری کی لالچ ،سب کچھ کا مقصد صرف اور صرف ایک خاندان کی سلطنت کا بچاؤ ہے۔اب تک کے حالات اس بات کو تقویت دے رہے ہیں کہ شام ہی وہ جگہ ہوگی جہاں دنیا کا جدید ترین اسلحہ انسان ایک دوسرے پر آزمائینگے جہاں ارادوں اور مہارتوں کا باہم ٹکراؤ ہوگا۔سعودی عرب کے ارادے اب چھپے نہیں رہے بلکہ اب تو وہ خود اس کا برملا اظہار کرتے نہیں جھجکتے،بات رہی مہارتوں کی تو شاید یہ مہارتوں کی تقویت کی خاطر ہی ہے کہ گیارہ ملکی مشترکہ جنگی مشقیں اس وقت جاری ہیں اور عرب دنیا میں اہم ممالک جیسے مصراور الجزائر کو رام کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔واحد مسلمان ایٹمی ملک پاکستان کو دھمکی دھونس کے بعد اب میگا اقتصادی پروجیکٹس سے للچانے کی کوشش جاری ہے،یوں لگتا ہے کہ اس کوشش میں سو فیصد نہ سہی لیکن کچھ نہ کچھ کامیابیاں بھی مل رہی ہیں۔ الجزائر اور سعودی عرب کی کبھی نہیں بنتی تھی لیکن مسلسل وہاں کے دوروں اور بات چیت نے مسئلے کو اس حد تک ٹھنڈا کردیاکہ الجزائر کا لہجہ دھیما ہوا اور کاٹ دار تنقید کچھ کم ہوئی۔
مصری حکومت مکمل طور پر خاندان سعود کے مرہون منت ہونے کے باوجود اندرونی خوف کا شکار ہے اور کسی بڑے قدم کی جانب جانا نہیں چاہتی لیکن اب وہاں پر بھی اتار چڑھاؤ نظر آنے لگا ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ خاندان سعود کہ جن کو اب عرب دنیا میں بنی سعود کہا جاتا ہے ڈیڑھ لاکھ کاایک لشکر تیار کرنے کا سوچا ہے جو شام میں گھسے گا جبکہ ان کی کٹ پتلیاں ادھ مردہ حالت میں پہلے سے مختلف ناموں اور شکلوں میں موجود ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی اس مداخلت کے لئے عالمی سطح پر سیکورٹی کونسل یا کم از کم اپنے بڑوں جیسے امریکہ، یورپی یونین سے ایک قانونی شلٹر لینے کی کوشش کرے۔یمن کی ناکام جنگ کا زیادہ تر بوجھ وہ یمن کے اندر موجود گروہوں میں شفٹ کرنے کی تیاریوں میں نظر آتا ہے جس کیلئے آخری کوشش یمنی اخوان المسلمین کو قطر اور خالد مشعل کے ذریعے رام کرنے کی ہے۔برطانیہ دس بلین ڈالر شام کی مدد کیلئے اپنی چندہ مہم کے پہلے مرحلے میں جمع کرچکا ہے ،بنی سعود خاندان کے افراد اپنی ذاتی بلین مالیت کے بیرونی اثاثے فروخت کرنے پر لگے ہیں۔
خلیجی عرب دنیا خاص کر جوان طبقہ سعودی اعلان کو سراہتا نظر آتا ہے اگرچہ دانشوروں کی اکثریت اس کو ایک خطرناک حدتک خودکشی کی کوشش کہہ رہے ہیں لیکن رائے عامہ اسے عہد سلمان کہہ کر خوب واہ واہ کہہ رہی ہے انہیں بس اس چیز کی خوشی ہے کہ اب ان کا شمار بھی ” کچھ کرگزرنے” والوں میں ہورہا ہے۔وہ سوچتے ہیں کہ عراق، افغانستان پر بمباری سے لیکر خطے کی تمام جنگوں میں ان کا ملک امریکیوں کا اتحادی رہا اور سہولت کاری کی لیکن اب وہ وقت آچکا ہے کہ وہ خود سے کچھ کرگزرنا چاہتے ہیں خواہ خودکشی ہی کیوں نہ ہو۔کچھ کر گزرنے کی سوچ میں خطہ اپنے
فیصلہ کن وقت کی کی جانب بڑھ رہا ہے میرے خیال میں یہ خود کشی سے بڑھ کر خودکش حملہ ہوگا جہاں حملہ ااور تو مارا جائیگا لیکن خطے کو ایک بڑی جنگ میں جونک دیگا شاید یہ وہی گھڑی ہو جس کا وعدہ دینی متون نے کیا ہے ،شاید بڑی تبدیلیوں کا وقت آپہنچا ہے۔

About مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے

One comment

  1. Vente Baclofen 25mg over seas orders for vardenafil Discount Mail Order Fedex Shipping Fluoxetine Best Website Pharmacy

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.