مشرقی پاکستان کی علٰحیدگی کو تسلیم کرنا اورخطہ گلگت بلتستان کے الحاق کو تسلیم نہ کرناشرمناک عمل ہے۔ غلام عباس

گلگت ( ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل) کشمیرکے محروم و مظلوم عوام کے حق خود ارادیت اور کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط اورانسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی شدیدمذمت کرتے ہیں،اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور حکومت پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے کشمیری عوام مظالم کا شکار رہے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری سیاسیات غلام عباس نے وحدت ہاؤس گلگت میں جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ظلم اور ظالم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت ہمارا دینی و شرعی فریضہ ہے ظلم و بربریت پر خاموشی اختیار کرنا ظالم کے ساتھ دینے کے مترادف ہے۔مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ اور ارض فلسطین پر یہودیوں کے ناجائز تسلط کے خلاف آواز بلند کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے اور 5 فروری مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے طور پر منائیں گے۔گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض کشمیری رہنماؤں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں میں نفرت کا بیج بویا ہے،جب بھی گلگت بلتستان کے محروم ومستضعف عوام کے حقوق کی بات ہوتی ہے تو یہی رہنما گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فام پر یکجا نہیں ہونگی ہمیں تب تلک بنیاد ی انسانی حقوق تلف ہوتے رہینگے۔اقتصادی راہداری اور آئینی کمیٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں ،صوبائی حکومت نے نہ تواقتصادی راہداری کیلئے کچھ کام کیا ہے اور نہ ہی آئینی حقوق کے حوالے سے قائم کمیٹی سے کوئی رابطہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن کشمیر کے تصفیے تک کیا گلگت بلتستان کے عوام یوں ہی اپنے حقوق سے محروم رہینگے؟انہوں نے ریاست پاکستان کے مشرقی پاکستان کی علٰحیدگی کو تسلیم کرنا اورخطہ گلگت بلتستان کے الحاق کو تسلیم نہ کرنے کے عمل کو انتہائی شرمناک قراردیا۔

About مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.