نائجیرین آرمی نے شیعہ رہنما ابراہیم زکزکی کے گھر کا محاصر ہ کرکے فائرنگ شروع کردی۔

گلگت (ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل، فارن ڈیسک) نائجیریا کی مسلح افواج نے شیعہ رہنما ابراہیم زکزکی کے گھر کا محاصرہ کرکے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید اور بیشتر زخمی ہوچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق آج دوپہر کے وقت جب ربیع الاول کی آمد اور اس مہینے رسول خداؐ کی ولادت کے حوالے سے ایک تقریب نائجیریا کے شہر زاریہ میں جاری تھی کہ مسلح افواج نے امامبارگاہ کو گھیرے میں لے کر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور سات افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کیا گیا ہے۔نائجیریا کے شیعہ رہنما ابراہیم زکزکی کے گھر کا محاصرہ کیا گیا ہے ان پر فوجی چیف کی کانوائے پر حملے کا الزام ہے۔فوجی ترجمان کرنل کوکا شیکا کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں نائجیرین آرمی چیف کی کانوائے پر حملہ شیعہ اس ملک کے شیعہ رہنما ابراہیم زکزکی کے کہنے پر کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ابراہیم زکزکی کی قیادت میں پچھلے کئی سالوں سے کرپٹ حکومت کے خلاف تحریک میں شدت آنے کے بعد حکومت اس تحریک کو کچلنے کیلئے بہانے تلاش کررہی ہے۔حالانکہ حکومت مخالف اس تحریک کے خلاف دہشت گرد تنظیم بوکو حرام بھی پیش پیش ہے جس نے یوم القدس کے موقع پر بم بلاسٹ کرکے 40 بیگناہ افراد کو شہید کیا تھا اس حملے میں ابراہیم زکزکی کے تین جوان سال بیٹے بھی شہید ہوچکے تھے۔پچھلے دنوں اس تحریک کے کچھ جوان دہشت گردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے تھے اور آج ان کی تدفین کے موقع پر آرمی نے محاصرہ کرلیا ہے اور آخری خبریں آنے تک ابراہیم زکزکی کے گھر کا محاصرہ جاری ہے اور فوج نے پیش قدمی جاری رکھی ہے۔

About Ali Haider

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.