صوبائی حکومت جی بی کو آئینی حقوق دینے میں نہ صرف سنجیدہ نہیں بلکہ انکے گلے میں مسئلہ کشمیر کی ہڈی پھنسی ہو ئی ہے، آغا علی رضوی

) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان کہا ہے کہ صوبائی حکومت کشمیرکی وکالت چھوڑ کر گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے لیے جدوجہد کرے، مسلم لیگ نون کی صوبائی اور وفاقی حکومت میں گلگت بلتستان کو آئینی حقوق ملنے کا کوئی امکان ہے اور نہ گلگت اسکردو روڈ سمیت دیگر اعلانات پر عمل ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں صوبائی حکومت بھی سابقہ حکومت کی پٹری پر چل پڑ ی ہے اور جس تیزی کے ساتھ اداروں میں غیرقانونی تقرریوں ، انتقامی کاروائیوں ، اقربا پروریوں اور طاقت کا استعمال شروع کیا ہے اس سے واضح ہو تا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کو بہت جلد پیچھے چھوڑے گی،گندم کوٹے میں کمی دراصل گندم سبسڈی کے خاتمے کی سازش ہے،صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ ملکرگندم کے حصول کومشکل بنادیا ہے،آہستہ آہستہ سبسڈی بھی ختم کرناچاہتی ہے،گندم گلگت بلتستان سے خریدنے کی باتیں بھی سبسڈی ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہے،عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس خطے کا وزیراعلی اپنے خطے کے ساتھ ہی مخلص نہ ہو وہاں کیا ترقی ہو سکتی ہے، جس جماعت نے الیکشن کے دنوں سب سے زیادہ آئینی حقوق کی بات کی ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اب وہی جماعت اپنی باتوں سے مکر گئی ہے اور گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے لیے نہ صرف سنجیدہ نہیں بلکہ انکے گلے میں مسئلہ کشمیر کی ہڈی پھنسی ہو ئی ہے۔ہم کشمیر ایشو کے مخالف نہیں لیکن کشمیر کے نام پر گلگت بلتستان کے حقوق کو پائمال کرنا افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے۔ ہم کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے کے ذریعے انکے مستقبل کا فیصلہ چاہتے ہیں کوئی یہ نہ سمجھیں کہ ہم مسئلہ کشمیر کے ہی مخالف ہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کشمیر کی صورتحال گلگت بلتستان سے زیادہ بہتر ہے جبکہ جی بی محرومی کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کو اپنی چراگاہ سمجھتی ہیں اور یہاں کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں، ان ستر سالوں میں آئینی حقوق کے لیے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کچھ کریں گے۔ ریاستی اداروں بلخصوص فوج کو اس حساس خطے کو آئینی حصہ بنانے کے لیے مخلص ہونے اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

About Ali Haider

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.