ثقافتی یلغار یاسامان تباہی

24 اگست 2015 روزنامہ کے ٹو میں جشن آزادی کے حوالے سے گرلز کالج سکردو میں منعقدہ تقریب میں طالبات کو ثقافتی لباس میں ٹیبلو پیش کرتے ہوئے فخریہ انداز میں دکھایا گیا ہے اور تقریباً تمام مقامی اخبارات میں ان جواں سال لڑکیوں کا یہ ثقافتی شو چار عدد جوڑوں(مرد و زن ) یعنی زوج و زوجہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔
اگرچہ بلتستان میں راجاؤں نے بھی تفریح طبع کے نام پر لڑکوں کو لڑکیوں کا لباس پہناکر رقص کرانے کے شواہد ملتے ہیں جس میں ناموس تو نہیں صرف ناموس کا ” لباس ” پامال ہوتا تھا لیکن اب تو خود ناموس کو ہی جھونکنے کی کوشش ہورہی ہے۔
سرزمین آل محمد بلتستان میں” جدت پسند ی اور مغربی ثقافت ” نہ صرف سرعت سے پھیل رہی ہے بلکہ سرکاری و غیر سرکاری ادارے ،بین الاقوامی این جی اوز ” مقصدیت” کے ساتھ پھرپور انداز سے پھیلارہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل شعوری یا لاشعوری طور پر اس یلغار کا حصہ بنتی جارہی ہے۔گلگت بلتستان میں ہر مسلمان مومن کی آنکھ اس ” مغربی ثقافتی یلغار” کو دیکھ رہی ہے اور ہر کان اس گونج کو سن رہا ہے اور یہ یلغار میڈیا کے ذریعے شہروں، یونیورسٹیوں، کالجوں، سکولوں اوردیگر بے دین اداروں سے گزر کر شرفاء کے گھروں تک پہنچا ہے جس نے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو فکری اور ذہنی طور پر پراکندہ و پریشان کردیا ہے۔اگر حقیقت سے آنکھیں بند نہ کریں اور والدین دل تھام کر سوچ لیں تو یہ بات بیجا اور غیر حقیقی نہیں کہ ہر گھر مغربی ثقافت کی زد میں آکر لہو ولعب اور بیہودگی کا شکار ہوچکا ہے۔نتیجتاً کتنے شریف گھرانوں کی لڑکیاں گھروں سے بھاگ کھڑی ہوئیں ہیں اور خاندان کی شرافت و عزت کو ملیامیٹ کرچکی ہیں۔ مغرب بلاشک و شبہ خود کو عذاب خدا میں مبتلا کرچکا ہے۔ایڈز کی مہیب و مہلک بیماری کوئی لطف پروردگار نہیں ،مغر ب سے ذہنی سکون کا چھن جانا، خاندانی وجود کا ختم ہونا، مرد وزن کی فطری و عقلی شادیوں کا جزوی طور پر معطل ہونا، ہم جنسوں سے شادیوں کی حکومتی سطح پر جائز قرار پانا وغیرہ خود ہواس باختگی کی دلیل ہیں۔ وہ آج ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہیں تو کل کسی اور جنسی بیماری کا شکا ہونگے اور یہ آزاد جنسی اختلاط کی سزا ہے جو خالق فطرت کی طرف سے باغی کیلئے مقرر ہے۔ مغرب اب ” ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے” کے قول قبیح پر گامزن ہیں اور ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بچیوں کو ” ثقافت” کیلئے پیش کرتے ہیں۔ انا للہ و انا ……
چند مذہب ناآشنا ،ملت فروش اور مغرب کے ذہنی و جسمانی غلام سیاست دان (جن کو اسلامی اصولوں ،دینی قدروں اور قرآنی تعلیمات سے سطحی واقفیت بھی نہیں) بی ایسی اسلام دشمن، اخلاق سوز، سماج فروش ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس کی بناء پر مغربی این جی اوز کے زیر اہتمام یا مالی معاونت سے چلنے والے بعض ادارے مسلمہ اسلامی اصولوں اور حدود شریعت کے خلاف بولنے اور لکھنے کی جرات کرچکے ہیں اور حرام خدا کو حلال اور گناہ کو ثواب ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔علامہ اقبال ؒ نے ایسی آزادی کو گرفتاری سمجھا ہے ۔

مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں آزادی ہے باطن میں گرفتاری

ایک اور افسوسناک پہلو ہمارے تعلیمی اداروں کا مغربی ثقافتی یلغار میں ممدومعاون ہونا ہے، یونیورسٹیاں مادر علمی ہوتی ہیں جس کے گود میں بیٹھ کر طلباء وطالبات اپنے تعلیمی ،تربیتی اور ذہنی بلوغت کے مراحل طے کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول سکولوں اور کالجوں سے قدر ے مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہاں سکول و کالج کے خام مال کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کے ہاتھوں تراش خراش کر ایک طالب علم کو بقدرے ظرف نگینہ بناکر معاشرے میں بھیجا جاتا ہے۔ طلباء میں مقرر، ادیب، شاعر، مصنف، سائنس دان وغیرہ ہونے کی صلاحیت یہی سے اجاگر ہوا کرتی ہے چنانچہ جہاں جہاں یونیورسٹیاں فعال ہوتی ہیں وہاں تعلیمی ماحول کا رنگ ڈھنگ ہی جدا ہوات ہے۔ نصابی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام اور طلبا غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھکر حصہ لیتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں قومی دن مثلاً یوم پاکستان ،قائد اعظم ڈے، علامہ اقبال ڈے وغیرہ منائے جاتے ہیں تاکہ طلباء کے اندر ملک و قوم کیلئے قربانی دینے کا جذبہ پروان چڑھے۔ یونیورسٹیوں میں شعرو ادب کے مقابلے ہوں، اسلام شناسی ،قرآن فہمی اور سیرت نبوی پر سیمینارز ہوں تاکہ خود یونیورسٹی اور بعد میں معاشرے کا سماجی ماحول پاک و صاف ہولیکن اگر اس کے برعکس ہمارا واحد مادر علمی ماضی میں کوئی ایسا موثر پروگرام منعقد نہ کرسکا بلکہ میو زیکل کنسرٹس،مینا بازار وغیرہ کوہی ترجیح دیتا رہا ہے۔
دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
ستم ظریفی یہ ہے کہ بلتستان کو ” سرزمین آل محمد” کہنے والے روحانی قیادت کے مالکان بھی یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے آنکھوں پر پٹی اور کانوں میں روئی رکھی ہوئی ہے ،جمعہ کے خطبوں میں اک آدھا جملہ ” بین السطور” کہنے کے بعد خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں اور ان بڑی سماجی برائیوں کے خلاف کوئی موثر قدم اٹھانے کیلئے تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ گلگت ،دیامر اور بلتستان میں لوگ مذہبی رنگ کو زیادہ پسند کرتے ہیں،اسلامی ثقافت کے علمبردار ہیں، غیرت و عزت کے معاملے میں کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں۔پس اس با شرف ثقافت کو ان علاقوں سے ختم کرنے کیلئے کچھ این جی اوز شعوری طور پر اور کچھ ” ترقی پسند” ادارے اور افراد لاشعوری طور پر ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ایسے میں لازم ہے کہ گلگت بلتستان کی روحانی قیادت قیام کرے اور تمام کالجوں، یونیورسٹی ،عام محفلوں اور ہوٹلوں میں ہونے والے غیر اخلاقی ،غیر شرعی اور علاقے کی غیرت و حمیت کے خلاف ہونے والے تمام ثقافتی سرگرمیوں کے خلاف قیام کرے اور اس علاقے کے انسانی و اسلامی مستقبل کو گناہ، عذاب الٰہی اور نتیجتاً تباہی سے بچائے اور اپنے آپ کو مسؤلیت اور خدائے تعالیٰ کی گرفت سے نجاب دلائے۔

اٹھو اے سونے والو سرپر دھوپ آئی قیامت کی
کہیں یہ دن نہ ڈھل جائے نصیب دشمناں ہوکر

(تحریر: ڈاکٹر علی گوہر سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ)

About Ali Haider

ایک تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.